**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)*کراچی کے علاقے احسن آباد میں فلیٹ سے میاں بیوی اور تین بچوں سمیت 5 افراد کی لاشیں ملنے کے کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔
پولیس کے مطابق لاشوں سے حاصل کیے گئے نمونے کیمیکل تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ بعض رپورٹس موصول ہوچکی ہیں جبکہ دیگر رپورٹس کا انتظار ہے۔
پولیس سرجن کراچی کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کردی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین کیمیکل ایگزامنر بورڈ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا گیا، جس کے باعث کیمیکل تجزیے کی رپورٹ تفتیش کے لیے اہم قرار دی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 20 ستمبر کو لاکھانی ٹوئن ٹاور کے ایک فلیٹ سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ مہوش اور بیٹی زینب سمیت پانچ افراد کی کئی روز پرانی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دو کمسن بچیوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ابتدائی تفتیش میں پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ ڈاکٹر عمر کو گزشتہ ماہ 13 اگست کو گردے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور انہوں نے اسپتال سے استعفا دے دیا تھا۔ تاہم پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک موت کی وجہ یا واقعے کے محرکات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیمیکل ایگزامنر بورڈ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پانچ افراد کی موت کے واقعے میں حتمی وجہ موت کا تعین شفاف اور سائنسی طریقہ کار کے ذریعے کرنا ضروری ہے۔ متاثرہ خاندان کے قانونی حقوق، متوفیان کی شناخت اور بچوں کی شناخت سے متعلق معلومات کی رازداری کا بھی تحفظ کیا جانا چاہیے۔
کسی بھی ممکنہ وجہ یا محرک کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات اور فرانزک شواہد سامنے آنے سے پہلے اخذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی مجرمانہ پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے تو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہوگی۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر پولیس اور دستیاب ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ موت کی حتمی وجہ اور واقعے کے دیگر اہم پہلو کیمیکل ایگزامنر بورڈ اور جاری تحقیقات کے بعد واضح ہوں گے۔ کسی بھی ابتدائی اطلاع کو حتمی عدالتی یا تفتیشی نتیجہ تصور نہ کیا جائے۔


