17

شہریوں کو آف لوڈ کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم، ایف آئی اے سے قانونی اختیار طلب

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو بیرونِ ملک سفر سے روکنے اور آف لوڈ کرنے کے معاملے پر ایف آئی اے کی جانب سے وضع کیے گئے ایس او پیز پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے آئندہ سماعت پر شہریوں کو روکنے کے قانونی اختیار سے متعلق مکمل معاونت طلب کرلی۔

جسٹس انعام امین منہاس نے شہری ساجد کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔

ایف آئی اے کی جانب سے 1975 کا ایک خط عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ خط میں شہریوں کو آف لوڈ کرنے کا واضح اختیار موجود نہیں۔ ایف آئی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں کو روکنے سے متعلق اقدامات ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ **ایس او پیز قانون نہیں ہوتے اور اداروں کو قانون کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے۔** عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر ادارہ قانون کے بجائے اپنے ایس او پیز کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگے تو بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے ہوگا۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی نے عدالت کو بتایا کہ 45 ہزار 850 افراد ڈی پورٹ ہوکر پاکستان واپس آئے، جبکہ پاکستان سے وزٹ ویزے پر بیرونِ ملک جانے والے 39 ہزار 95 افراد واپس نہیں آئے۔

ایف آئی اے افسر نے مزید بتایا کہ 1100 سے زائد افراد بیرونِ ملک گداگری میں ملوث پائے گئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ افراد بھی ایف آئی اے کی کلیئرنس کے بعد بیرونِ ملک گئے تھے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایف آئی اے کے پاس شہریوں کو روکنے کا قانونی اختیار موجود نہیں تھا تو قانون میں ترمیم یا نیا قانون بنانے کی سفارش کی جاسکتی تھی، تاہم محض ایس او پیز کے ذریعے شہریوں کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے۔

عدالت نے ایف آئی اے حکام سے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا کسی شہری کو صرف اس خدشے کی بنیاد پر آف لوڈ کرنے کا اختیار موجود ہے کہ وہ بیرونِ ملک جاکر کوئی غیر قانونی سرگرمی کرسکتا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس نے قرار دیا کہ اگر ایس او پیز اتنے اہم ہیں تو ان کے لیے متعلقہ قانون میں ترمیم کرائی جائے۔ عدالت نے بنیادی حقوق اور اداروں کے داخلی ضوابط کے درمیان قانونی حدود سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ایس او پیز کے بجائے شہریوں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق **متعلقہ قانونی اختیار** کی وضاحت کی جائے اور مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں۔ بعد ازاں سماعت ملتوی کردی گئی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پاکستانی شہریوں کا بیرونِ ملک سفر، قانون کے دائرے میں، بنیادی حقوق اور آزادانہ نقل و حرکت سے متعلق معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ کسی شہری کو سفر سے روکنے کے لیے واضح قانونی بنیاد، شفاف طریقہ کار اور قابلِ احتساب فیصلہ سازی اہم ہے۔

ساتھ ہی ریاستی اداروں کو انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت اور بیرونِ ملک گداگری جیسے مسائل کی روک تھام کا قانونی اختیار حاصل ہوسکتا ہے، تاہم ایسے اقدامات قانون کے واضح دائرہ کار اور بنیادی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔

عدالت کی جانب سے قانونی اختیار کی وضاحت طلب کیے جانے کا مقصد بھی یہی سوال جانچنا ہے کہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے لیے موجودہ قانونی بنیاد کیا ہے اور انتظامی ایس او پیز اس اختیار کی حدود کہاں تک متعین کرسکتے ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت اور دستیاب عدالتی و میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالت کے ریمارکس کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔ ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور مؤقف کو متعلقہ ادارے کی فراہم کردہ معلومات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں