**لندن — (ایچ آراین ڈبلیو)**ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری جاری رکھنے کے عندیے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات 24 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 92 سینٹ، یعنی 0.9 فیصد کمی کے بعد تقریباً 102.16 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 77 سینٹ، یعنی 0.8 فیصد کمی کے بعد 91.39 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا تھا، تاہم ایران کی جانب سے سفارت کاری کے لیے آمادگی کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کی توجہ ممکنہ مذاکرات اور خطے میں تیل کی فراہمی کے مستقبل کی جانب مبذول کردی۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر اب بھی اختلافات موجود ہیں، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ سفارت کاری کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
عالمی توانائی مارکیٹ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل اور خطے سے برآمدات میں ممکنہ بحالی کو قیمتوں کے لیے اہم عوامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر توانائی، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے دوران سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی سے شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی فراہمی میں استحکام کے امکانات بھی وابستہ ہیں۔
پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار رکھنے والے ممالک میں عالمی قیمتوں میں تبدیلیاں مقامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عام صارفین کے اخراجات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر عالمی تیل مارکیٹ اور ایران و امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت سے متعلق دستیاب رائٹرز رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جبکہ سفارتی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بھی تبدیلی ممکن ہے۔ مقامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دیگر عوامل اور سرکاری قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار کے تحت طے ہوتی ہیں۔


