9

احمد الشرع کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب، قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر خدمت کا عزم

**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**شام کے صدر احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی و عوامی سفر اور شام کی تعمیرِ نو کے حوالے سے قرآنِ مجید کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے قوم کی خدمت کا عزم ظاہر کیا۔

احمد الشرع نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے اسی فورم پر قرآنِ مجید کی آیت **”وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا”** تلاوت کی تھی، جس کا مفہوم ہے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جب حق ایک مضبوط عمارت کی صورت میں مجسم ہو رہا ہے تو وہ اپنے اہلِ خانہ اور اپنی قوم کی خدمت کے لیے دن رات محنت کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

شامی صدر نے اس موقع پر قرآنِ مجید کی ایک اور آیت **”وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ”** کا حوالہ دیتے ہوئے عمل اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔

احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں شام کی بحالی، ریاستی اداروں کی تعمیرِ نو، ملک کے اتحاد اور جنگ کے بعد مختلف شعبوں میں استحکام کی کوششوں پر بھی بات کی۔ قطر نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے علاقائی صورتحال، عبوری انصاف، پابندیوں میں نرمی اور ریاستی اداروں کی بحالی سمیت مختلف امور پر بھی گفتگو کی۔

اس سے قبل احمد الشرع نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر کے وزیٹرز رجسٹر میں بھی قرآنِ مجید کی سورۃ التوبہ کی آیت 105 تحریر کی تھی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

شام کی طویل جنگ کے بعد ریاستی اداروں کی بحالی، شہریوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور عبوری انصاف کا عمل لاکھوں متاثرہ شہریوں کے مستقبل سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ کسی بھی سیاسی و ریاستی منتقلی میں شہریوں کے بنیادی حقوق، مذہبی و نسلی برادریوں کا تحفظ، انصاف تک رسائی اور پائیدار امن کو اہمیت دینا ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر احمد الشرع کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور دستیاب سرکاری و میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات کے حوالے اور ان کے مفہوم کو خبر کے سیاق میں بیان کیا گیا ہے، جبکہ شام کی سیاسی صورتحال اور مستقبل سے متعلق دعووں کو متعلقہ فریقین کے مؤقف کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں