**پشاور — (ایچ آراین ڈبلیو)**پشاور کے علاقے بڈھ بیر شیخان میں پولیس نے ایک 19 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر بچیوں کی قبروں سے لاشیں نکالنے اور ان کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو مبینہ طور پر پانچویں واردات کے دوران اس وقت گرفتار کیا گیا جب قبرستان کے چوکیدار اور مقامی افراد نے اسے قابو کرکے پولیس کے حوالے کیا۔
ایس پی صدر فدا حسین کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت سلمان ولد افغان کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس دوران مختلف قبروں سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم کی جانب سے متعدد قبروں کو کھودنے اور لاشوں کی بے حرمتی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم مبینہ طور پر چار واقعات میں ملوث رہا اور پانچویں کوشش کے دوران گرفتار ہوا۔
حکام کے مطابق ملزم سے متعلق مزید شواہد اور واقعات کی تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آسکیں گی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا اور معاملے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بعض مقامی ذرائع کی جانب سے ملزم کی شہریت سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ایسی معلومات کو حتمی طور پر متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کیا جانا ضروری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جنسی یا جسمانی استحصال کے الزامات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی شناخت اور رازداری کا مکمل تحفظ ضروری ہے، جبکہ لاشوں اور قبروں کی بے حرمتی سے متعلق الزامات کی بھی شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ملزم کے خلاف الزامات کی مکمل تفتیش، قابلِ قبول شواہد کا حصول اور عدالت کے سامنے قانونی کارروائی ضروری ہے۔ محض پولیس یا مقامی افراد کے دعووں کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ اور عوامی مسائل کی آزادانہ و ذمہ دارانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر پولیس اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف بیان کردہ الزامات ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور انہیں حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہیں کیا جائے۔ متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی شناخت سے متعلق معلومات دانستہ طور پر شامل نہیں کی گئیں۔


