11

نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی میں صفر نمبر، بورڈ کے خلاف عدالت پہنچ گیا

پشاور (ایچ آراین ڈبلیو):** نویں جماعت کے طالب علم **عبدالمعیز خان** نے بیالوجی کے تھیوری پرچے میں صفر نمبر دیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا۔

پشاور ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت **جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار** پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے کنٹرولر امتحانات پشاور بورڈ کو طالب علم کا بیالوجی کا پرچہ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ طالب علم نے نویں جماعت کے دیگر مضامین میں **اے ون گریڈ** حاصل کیا ہے، جبکہ بیالوجی کے ایم ایس کیوز اور پریکٹیکل میں **25 میں سے 23 نمبر** حاصل کیے، تاہم تھیوری کے پرچے میں اسے صفر نمبر دیے گئے۔

وکیل کے مطابق طالب علم نے ری چیکنگ کے لیے درخواست دی اور بورڈ سے اپنا پرچہ دکھانے کا مطالبہ بھی کیا، تاہم بورڈ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ رواں سال پرچہ دکھانے سے متعلق تاحال کوئی قواعد وضع نہیں کیے گئے۔

عدالت میں وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض تعلیمی اداروں میں چیکنگ کے بعد طالب علم کو پرچہ دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے جوابات اور مارکسنگ کا جائزہ لے سکے۔ عدالت نے بھی ریمارکس دیے کہ بیرونِ ملک بھی اس نوعیت کا طریقہ کار رائج ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ **کنٹرولر امتحانات پشاور بورڈ کو طالب علم کا بیالوجی کا پرچہ پیش کرنے کا حکم دیا جاتا ہے** تاکہ عدالت معاملے کا جائزہ لے سکے۔

**(ایچ آراین ڈبلیو)**

اپنا تبصرہ بھیجیں