**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ کے سینئر وزیر **شرجیل انعام میمن** نے اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ جھوٹے، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی الزامات کی تشہیر کے خلاف **نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)** سے رجوع کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق شرجیل انعام میمن نے **9 اگست** کو این سی سی آئی اے میں باقاعدہ تحریری شکایت جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے اور ان کے بیٹے کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن مواد پھیلایا جا رہا ہے، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
شکایت کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ گلستانِ جوہر کراچی میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں مبینہ طور پر **میر علی رضا** کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے متعلقہ ادارے سے فوری تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقات اور انکوائری میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو
اظہارِ رائے کی آزادی جمہوری معاشرے کا اہم اصول ہے، تاہم کسی فرد کے خلاف بغیر ثبوت جھوٹے یا گمراہ کن الزامات کی تشہیر اس کی ساکھ اور بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں غیر جانبدارانہ تحقیقات، شواہد کی جانچ اور قانونی طریقۂ کار پر عمل درآمد ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور تمام فریقوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** عوامی مفاد، قانون، گورننس، ڈیجیٹل حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق آزاد، ذمہ دارانہ اور متوازن صحافت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔
آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
**ڈسکلیمر:** یہ خبر شرجیل انعام میمن کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت اور ان کے بیان پر مبنی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ معاملے کی حقیقت متعلقہ ادارے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔


