**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — سرکاری ملازمین کے خاندانوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ خزانہ (فنانس ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے جاری حالیہ خط کے مطابق، ایسے سرکاری ملازمین کے ورثا بھی خصوصی رعایت کے تحت پنشن کے اہل ہو سکتے ہیں جو **دورانِ سروس 10 سال کی لازمی مدت مکمل کرنے سے قبل انتقال کر گئے ہوں**۔
عام پنشن قوانین کے تحت پنشن کے حصول کے لیے کم از کم 10 سال کی سروس کی شرط عائد ہوتی ہے، تاہم فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دی جانے والی خصوصی اجازت یا رعایت کی صورت میں دورانِ سروس وفات پانے والے ملازم کے خاندان کو پنشن کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایسے خاندانوں کو مالی مشکلات سے بچانا اور متوفی سرکاری ملازمین کے پسماندگان کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اچانک آمدنی کے ذریعے سے محروم ہونے کے باعث مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
متعلقہ ورثا اس رعایت سے متعلق مزید معلومات، اہلیت اور طریقہ کار کے لیے اپنے متعلقہ سرکاری محکمے یا فنانس ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
**انسانی حقوق کا پہلو:**
پنشن اور دیگر سماجی تحفظ کی سہولیات سرکاری ملازمین کے پسماندگان کے لیے اہم معاشی تحفظ کا ذریعہ ہیں۔ ایسے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنا سماجی تحفظ اور انسانی وقار کے اصولوں کے عین مطابق ہے، خصوصاً ان حالات میں جب خاندان کا کفیل دورانِ ملازمت انتقال کر جائے۔
### Support HRNW — ایچ آراین ڈبلیو کو سپورٹ کریں
انسانی حقوق، قانونی آگاہی، عوامی مسائل اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW) — ایچ آراین ڈبلیو** کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW — https://www.hrnww.com/?page_id=1083]
### Disclaimer
یہ خبر دستیاب معلومات اور محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ خط سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ پنشن کی اہلیت، شرائط اور رعایت کا اطلاق متعلقہ صوبے، محکمے اور نافذ العمل قوانین و قواعد کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ حتمی معلومات اور طریقہ کار کے لیے متعلقہ فنانس ڈیپارٹمنٹ یا سرکاری ادارے کے باضابطہ نوٹیفکیشن سے رجوع کیا جائے۔
**Human Rights News Worldwide (HRNW) — ایچ آراین ڈبلیو — انسانی حقوق، عوامی آگاہی اور ذمہ دار صحافت کے لیے ایک مؤثر آواز۔**


