22

لاہور بارڈر ایریا میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، پولیس اہلکار سمیت متعدد افراد گرفتار

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** – لاہور کے بارڈر ایریا میں عرصہ دراز سے جاری مبینہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ منشیات کے مکروہ دھندے میں مبینہ طور پر بااثر افراد کے ساتھ ساتھ بعض پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی میں دیگر ملزمان کے ہمراہ **ڈولفن فورس کے ایک اہلکار دلاور** کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس گرفتاری کے بعد منشیات کے نیٹ ورک اور اس میں مبینہ سہولت کاری کے کردار کی تحقیقات مزید اہم ہو گئی ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بارڈر سے ملحقہ دیہی علاقوں میں منشیات کی سپلائی نے نوجوان نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کے مطابق اس لعنت کے باعث متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں اور نوجوانوں کی زندگیاں تباہی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے نہ صرف اسمگلروں بلکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے، خاص طور پر اگر کسی سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہری حلقوں نے **ڈی آئی جی لاہور فیصل کامران** سے اپیل کی ہے کہ بارڈر ایریا میں تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کی خفیہ جانچ کروائی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ مبینہ روابط رکھنے والے افراد کا تعین کیا جا سکے۔

مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

* بارڈر ایریا میں تعینات اہلکاروں کے ممکنہ روابط کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
* ملوث افراد کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔
* منشیات کے خاتمے کے لیے شفاف اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔

ماہرین کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ ان عناصر کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو انہیں سہولت فراہم کرتے ہیں۔

**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:** اس خبر میں شامل الزامات اور دعوے دستیاب معلومات اور متعلقہ حلقوں کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ کسی بھی فرد کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اور ہر شخص کو قانون کے مطابق صفائی کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں