17

20 سال ملازمت مکمل کرنے والا سرکاری ملازم استعفیٰ کے باوجود پنشن کا حق دار، تاخیر سے درخواست پر بھی حق ختم نہیں ہوتا: سپریم کورٹ

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم قانون کے مطابق مطلوبہ مدتِ ملازمت مکمل کر چکا ہو تو وہ استعفیٰ دینے یا کئی سال بعد پنشن کے لیے درخواست دینے کے باوجود اپنے قانونی حق سے محروم نہیں ہوتا۔

یہ فیصلہ **Civil Petition No. 4065 of 2024** میں **07 جنوری 2026** کو تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس محمد شفیع صدیقی (مصنفِ فیصلہ) اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔

درخواست گزار محمد عثمان نے 20 سال سے زائد سرکاری ملازمت مکمل کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے پنشن کے حصول کے لیے درخواست دی، تاہم متعلقہ محکمہ اور فیڈرل سروس ٹریبونل نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ پنشن کی درخواست تاخیر سے دی گئی ہے اور استعفیٰ دینے کے بعد پنشن کا حق باقی نہیں رہتا۔

سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن کسی سرکاری ملازم پر حکومتی احسان نہیں بلکہ اس کا حاصل شدہ قانونی اور آئینی حق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مطلوبہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد استعفیٰ دینے سے پنشن کا حق خود بخود ختم نہیں ہوتا، جبکہ صرف تاخیر سے درخواست دینے کی بنیاد پر بھی کسی ملازم کو پنشن سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ **Civil Service Regulations (CSR)** کے ریگولیشن 418 کی ایسی تشریح نہیں کی جا سکتی جس کے نتیجے میں کسی ملازم کو بلاجواز اس کے قانونی حق سے محروم کر دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو قانون کے مطابق پنشن کے تمام واجب الادا فوائد فراہم کیے جائیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ان ہزاروں سرکاری ملازمین کے لیے اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جنہوں نے مطلوبہ مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا یا پنشن کے لیے تاخیر سے درخواست دی۔

**HRNW عوامی آگاہی:** اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز نے قانون کے مطابق پنشن کے لیے مطلوبہ مدتِ ملازمت مکمل کی ہے اور صرف استعفیٰ یا تاخیر کی بنیاد پر پنشن سے محروم کیا گیا ہے تو اس فیصلے کی روشنی میں اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد اور غیرجانبدار صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:** HRNW خبروں اور معلومات کی فراہمی میں احتیاط برتتا ہے، تاہم قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی قانونی اقدام سے قبل متعلقہ عدالتی فیصلے، قوانین اور مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں