**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** لاہور کے علاقے غازی آباد میں ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے الزام میں پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو گرفتار کر لیا گیا۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے فوری کارروائی کی ہدایت دی، جس کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق واقعہ کینٹ ڈویژن کے تھانہ غازی آباد کی حدود میں پیش آیا، جہاں انویسٹیگیشن ونگ میں تعینات **اے ایس آئی عمران انور** پر الزام ہے کہ وہ ایک ذہنی معذور لڑکی کو موٹر سائیکل پر اپنے ساتھ تھانے لے گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق قریبی دکانداروں نے پولیس اہلکار کو آگاہ کیا تھا کہ لڑکی ذہنی طور پر معذور ہے، تاہم مبینہ طور پر اہلکار نے خود کو پولیس افسر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی ایک ملزمہ ہے اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
ادھر اہل خانہ نے لڑکی کے لاپتہ ہونے پر تلاش شروع کی۔ محلے داروں نے انہیں بتایا کہ ایک پولیس اہلکار لڑکی کو اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ بعد ازاں لڑکی گھر واپس پہنچی اور اہل خانہ کے مطابق شدید ذہنی اضطراب میں تھی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ تھانے کے ایک کمرے میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
اطلاع ملنے پر متعلقہ پولیس نے ملزم **اے ایس آئی عمران انور** کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، جبکہ **ڈی آئی جی انویسٹیگیشن** کی ہدایت پر ملزم کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر قانونی تقاضوں کی روشنی میں مزید پیش رفت کی جائے گی۔
—
### 🤝 HRNW کو سپورٹ کریں
اگر آپ انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ، اور مستند صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو HRNW کی حمایت کریں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر ابتدائی پولیس کارروائی، ذرائع اور دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ ملزم کے خلاف الزامات کی حقیقت کا حتمی تعین عدالت میں ہونے والی قانونی کارروائی کے ذریعے کیا جائے گا، اور قانون کے مطابق ہر ملزم کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ متاثرہ خاتون/لڑکی کی شناخت اور وقار کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے HRNW ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور معاملے سے متعلق مزید سرکاری یا عدالتی پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔


