22

قطر سے وطن واپس آنے والا اوورسیز پاکستانی قتل، لاش سیالکوٹ کے جنگل سے برآمد

**شیخوپورہ (ایچ آراین ڈبلیو):** قطر سے وطن واپس آنے والے ضلع شیخوپورہ کے رہائشی اوورسیز پاکستانی **محمد عرفان** کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا، جبکہ ان کی لاش سیالکوٹ کے تھانہ پھلورہ کی حدود میں واقع سیہووال کے جنگل سے برآمد ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق محمد عرفان **28 جولائی** کی صبح تقریباً **5:30 بجے** قطر سے **سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ** پہنچے تھے، جہاں سے وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ بعد ازاں ان کی لاش جنگل میں ایک گڑھے سے برآمد کی گئی۔

اہل خانہ کے مطابق **احمد شہباز چٹھہ** نامی شخص نے واٹس ایپ پر ایک پیغام بھیج کر دعویٰ کیا کہ اس نے محمد عرفان کو ایک مبینہ “فوجی گروپ” کے ذریعے اغوا کروایا ہے اور ان کی لاش سیہووال کے جنگل میں موجود ہے۔ اس دعوے کی پولیس کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

پولیس تھانہ ایئرپورٹ سیالکوٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد نے محمد عرفان کو ایئرپورٹ سے رسیو کیا، ابتدائی شواہد کے مطابق وہی افراد مبینہ طور پر قتل میں ملوث ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کو ان کے جاننے والوں نے مبینہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے ساتھ لے جا کر قتل کیا۔

ایس ایچ او تھانہ ایئرپورٹ **احمد بلال** کے مطابق مقتول کے اغوا کا مقدمہ پہلے ہی درج کیا جا چکا تھا، جبکہ لاش برآمد ہونے کے بعد مقدمے میں **دفعہ 302 (قتل عمد)** بھی شامل کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

محمد عرفان کا تعلق ضلع شیخوپورہ سے تھا، جہاں ان کا آبائی گھر واقع ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد اہل خانہ اور عزیز و اقارب میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

### 🤝 HRNW کو سپورٹ کریں

اگر آپ انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور مستند صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو HRNW کی حمایت کریں:

**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ اہم ہدایت (Important Note)

یہ خبر پولیس، ابتدائی تفتیش اور اہل خانہ کے بیانات پر مبنی ہے۔ واقعے سے متعلق تمام الزامات تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے تابع ہیں، اور کسی بھی شخص کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ HRNW متوازن، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے اور نئی سرکاری معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں