**قصور (ایچ آراین ڈبلیو)** – قصور پولیس نے 80 ہزار روپے کی تنخواہ والدین کو دینے سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر ڈکیتی اور فائرنگ کا ڈرامہ رچانے والے نوجوان اور اس کے تین دوستوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ شب 15 پر اطلاع موصول ہوئی کہ حویلی تیلیانوالی کا رہائشی **عدنان** چار مسلح ڈاکوؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا، 80 ہزار روپے سے محروم اور فائرنگ سے زخمی ہو گیا ہے۔
ڈی پی او قصور **آفتاب احمد پھلروان** کی ہدایت پر ڈی ایس پی **افضل ڈوگر** اور ایس ایچ او **علی اکبر** پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ تاہم پولیس کی آمد سے قبل زخمی عدنان کو جناح اسپتال لاہور منتقل کیا جا چکا تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد مشتبہ پہلوؤں کے پیشِ نظر عدنان کے دوستوں سے پوچھ گچھ کی۔
تحقیقات کے دوران عدنان کے دوستوں **عدیل، عدنان اور چاند** نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ عدنان اپنی 80 ہزار روپے کی تنخواہ والدین کو دینے کے بجائے اس رقم سے نیا موبائل فون خریدنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مل کر جعلی ڈکیتی کا منصوبہ بنایا، عدنان کو پستول فراہم کیا اور اس کی پنڈلی میں گولی مار کر اسے جناح اسپتال لاہور منتقل کر دیا تاکہ واقعے کو حقیقی ڈکیتی ظاہر کیا جا سکے۔
پولیس نے مضروب عدنان اور اس کے تینوں دوستوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او آفتاب احمد پھلروان نے مبینہ رابری معہ ضرر کے ڈرامے کو بے نقاب کرنے پر تھانہ راجہ جنگ پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور گھر میں دوستانہ ماحول قائم کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
**مزید انسانی حقوق اور قومی و عالمی خبروں کے لیے ملاحظہ کریں:**
[https://www.hrnww.com](https://www.hrnww.com)
**HRNW کی حمایت کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر پولیس کے جاری کردہ بیان اور ابتدائی تحقیقات پر مبنی ہے۔ مقدمہ زیرِ تفتیش ہے اور گرفتار افراد پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ HRNW غیرجانبدار، مستند اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے۔


