10

ولیکا اسپتال میں نوعمر بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کا معاملہ، صوبائی محتسب سندھ نے انتظامی خامیوں کا جائزہ لے لیا

**کراچی (HRNW)** – کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکیورٹی اسپتال میں نوعمر بچوں میں **ایچ آئی وی (HIV/AIDS)** کے پھیلاؤ سے متعلق کیس کی سماعت صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کی زیرِ صدارت ہوئی، جس میں اسپتال کے انتظامی اقدامات اور متاثرہ بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔

سماعت میں سیکریٹری لیبر سندھ ساجد جمال ابڑو، کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) ہادی بخش کلہوڑو، سینیئر میڈیکل ایڈوائزر، فوکل پرسن ڈاکٹر سعادت، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر غیاث الدین اور متاثرہ بچوں کے والدین نے شرکت کی۔

سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ مزید **16 نئے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص** ہوئی ہے، جبکہ مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

متاثرہ بچوں کے والدین نے اسپتال انتظامیہ کے عدم تعاون، ادویات کی عدم دستیابی، انتظامی رویے اور علاج کے اخراجات سے متعلق بقایاجات کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی شکایات پیش کیں۔

صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے اسپتال کے اسٹاف کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت کے مطابق تربیت یافتہ عملہ اور سینئر عہدوں پر پبلک ہیلتھ سیکٹر سے ماہر افراد کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ سندھ انفیکشیئس ڈیزیز اسپتال سے ماہر ڈاکٹرز کو چھ ماہ کے لیے ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے کی کوشش کی جائے، جبکہ اسپتال میں ادویات، ڈائیٹ سپلیمنٹس اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی فوری طور پر یقینی بنائی جائے۔

صوبائی محتسب سندھ نے ابتدائی طور پر کہا کہ بظاہر اسپتال کے مالی معاملات کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا معاملہ سامنے آیا، اور اسپتال کے مالی امور کے آڈٹ کے لیے دو ہفتوں میں معروف آڈٹ کمپنی تلاش کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی بحالی سے متعلق اقدامات کا بھی حکم دیا، جن میں علاج کے باعث روزگار سے محروم ہونے والے مزدور والدین کی مدد، انتقال کر جانے والے بچوں کے لیے معاوضہ اور مرض میں مبتلا بچوں کی بحالی شامل ہے۔

محمد سہیل راجپوت نے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی نفسیاتی بحالی کے لیے ماہر نفسیات تعینات کرنے، جبکہ ایچ آئی وی کے علاج، تشخیص اور بچاؤ سے متعلق میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے اسپتال کے داخلی دروازے کے قریب فوری طور پر ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کا حکم دیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو رہنمائی اور سہولت فراہم کی جا سکے۔

سماعت کے بعد صوبائی محتسب سندھ نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

انسانی حقوق کے تناظر میں صحت کی سہولیات تک رسائی، بچوں کا تحفظ، بروقت علاج، امتیازی سلوک سے بچاؤ اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لیے طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ سماجی اور نفسیاتی مدد بھی انتہائی ضروری ہے۔

HRNW اس معاملے کو بچوں کے حقوق، صحت کے بنیادی حق اور عوامی اداروں کی جواب دہی کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فرد، ادارے یا فریق کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل معلومات صوبائی محتسب سندھ اور متعلقہ حکام کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ حتمی حقائق اور ذمہ داریوں کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں