**کراچی (HRNW)** – پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی **سجاد علی سومرو** نے لیاری میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران لیاری کے عوام کو پانی، صحت، صفائی اور امن و امان جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
سجاد علی سومرو نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ لیاری کے بچے اور خواتین آلودہ پانی کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کا نظام بھی شدید متاثر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی کے باوجود لیاری کے عوام کی زندگی میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ انہوں نے سیاسی نمائندوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد اقتدار میں آنے کے بعد ذاتی ترقی کرتے ہیں، لیکن عوامی مسائل برقرار رہتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ لیاری کے عوام کو بڑے اجتماعات یا نمائشی منصوبوں کے بجائے صاف پانی، معیاری صحت کی سہولیات، بہتر سیوریج نظام اور امن و امان کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ لیاری میں بلڈر مافیا، جوئے اور گٹکا مافیا جیسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا تشویش کا باعث ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو ایسے عناصر سے تحفظ فراہم کرے۔
سجاد علی سومرو نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف لیاری کے عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور پانی، صحت، صفائی، امن و امان اور کرپشن کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
انسانی حقوق کے تناظر میں صاف پانی، صحت کی سہولیات، محفوظ ماحول اور بنیادی شہری خدمات تک رسائی عوام کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔ تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے عائد الزامات اور دعوؤں کی حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کے ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔
HRNW اس بیان کو شہری مسائل، بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی سیاسی جماعت، رہنما یا ادارے کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق اور شہری مسائل سے متعلق معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل الزامات اور سیاسی بیانات متعلقہ بیان دینے والے فریق سے منسوب ہیں، جبکہ ان کی حتمی تصدیق متعلقہ حقائق اور آزادانہ تحقیقات سے کی جا سکتی ہے۔


