**اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو)** — لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک میں **انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان** کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی سفارش کر دی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے فوری، مؤثر اور شفاف حل کے لیے ایک مخصوص عدالتی نظام قائم کرنا ہے۔
مجوزہ عدالت کے قیام کی سفارش حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اس تجویز کے تحت ایسی عدالت قائم کرنے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور تجارتی معاملات سے متعلق پیچیدہ مقدمات کو ماہر عدالتی طریقہ کار کے ذریعے نمٹانا بتایا گیا ہے۔
تاہم اس تجویز پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ملک کی موجودہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد موجود ہے اور عام شہریوں کو انصاف کے حصول میں طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو نئی خصوصی عدالت کے قیام سے پہلے عام عدالتی نظام میں اصلاحات اور زیر التوا مقدمات کے خاتمے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
## انسانی حقوق کا زاویہ
**ایچ آر این ڈبلیو** کے مطابق مؤثر اور بروقت انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ عدالتی نظام میں بہتری، چاہے وہ تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ہو یا عام شہریوں کے مقدمات کے لیے، شفافیت، برابری اور انصاف تک آسان رسائی کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
انصاف کا نظام اسی وقت مضبوط سمجھا جاتا ہے جب عام شہری، کاروباری ادارے اور سرمایہ کار سب کو یکساں طور پر فوری، غیر جانبدار اور قابل اعتماد قانونی تحفظ حاصل ہو۔
## انسانی حقوق کی صحافت کی حمایت کریں
**انسانی حقوق کی صحافت کے فروغ اور ہمارے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ہمارا ساتھ دیں:**
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
## دستبرداری (Disclaimer)
یہ خبر دستیاب معلومات، سرکاری سفارشات اور عوامی ردعمل کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بعض آراء اور تبصرے مختلف حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ ایچ آر این ڈبلیو کسی سیاسی یا ادارہ جاتی مؤقف کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتا بلکہ شفافیت، قانون کی حکمرانی، انصاف تک مساوی رسائی اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔


