**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو)** — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک مبینہ 7 رکنی گینگ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ڈائریکٹر کراچی زون کی ہدایات پر نارتھ ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے کراچی کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے دفاتر قائم کر رکھے تھے جہاں سے شہریوں کو یورپ بھجوانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر رقم وصول کی جاتی تھی۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران کرائے کی عمارت میں قائم ایک دفتر سے مبینہ طور پر سیکڑوں پاکستانی پاسپورٹس، لیپ ٹاپس، پولیس کی وردیاں، اسلحہ اور دیگر اہم شواہد برآمد کیے گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان بیرون ملک ملازمت اور ویزوں کے نام پر شہریوں سے مبینہ طور پر 8 سے 10 لاکھ روپے فی کس وصول کرتے تھے، تاہم متاثرہ افراد کو ویزا فراہم نہ کیا جاتا اور انہیں مختلف حیلے بہانوں سے ٹال دیا جاتا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق جب متاثرہ شہری رقم واپسی یا ویزا کا مطالبہ کرتے تو ملزمان کے ساتھی مبینہ طور پر پولیس کی جعلی وردیاں پہن کر انہیں دھمکاتے اور ہراساں کرتے تھے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک 52 متاثرہ شہری سامنے آ چکے ہیں جبکہ مزید متاثرین اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیٹ ورک گزشتہ پانچ برس سے انسانی اسمگلنگ اور فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
ایف آئی اے نے مزید سہولت کاروں کی گرفتاری اور مالی معاملات کی تحقیقات کا دائرہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
## انسانی حقوق کا زاویہ
**ایچ آر این ڈبلیو** اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جو متاثرہ افراد کو مالی استحصال، دھوکا دہی، خطرناک سفری حالات اور ممکنہ استحصال کا شکار بنا سکتی ہے۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ، انصاف تک رسائی اور ضروری معاونت بھی فراہم کریں۔ انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے شفاف تحقیقات، ذمہ دار احتساب اور عوامی آگاہی انتہائی اہم ہیں۔
## انسانی حقوق کی صحافت کی حمایت کریں
**انسانی حقوق کی صحافت کے فروغ اور ہمارے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ہمارا ساتھ دیں:**
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
## دستبرداری (Disclaimer)
یہ خبر ایف آئی اے کے بیان، دستیاب معلومات اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کا حتمی تعین عدالت کے ذریعے ہوگا۔ ایچ آر این ڈبلیو کسی فرد کو عدالتی فیصلے سے قبل مجرم قرار نہیں دیتا اور انسانی حقوق، منصفانہ قانونی عمل، متاثرین کے تحفظ اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔


