**بغداد/واشنگٹن (ایچ آر این ڈبلیو)** — امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے بتایا کہ ہفتے کے روز شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور ایک ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو تباہ کر دیا۔
حالیہ حملوں کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان محدود جھڑپیں ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کی کارروائیوں میں ایسے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے جن پر عام شہریوں کی بڑی تعداد انحصار کرتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
## انسانی حقوق کا زاویہ
**ایچ آر این ڈبلیو** اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی مسلح تنازع میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ شہری بنیادی ڈھانچے، توانائی کے ذرائع، طبی سہولیات اور دیگر ضروری نظاموں کو نشانہ بنانے سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
تمام فریقین پر بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت لازم ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، طاقت کے استعمال میں احتیاط برتیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے انسانی جانوں اور بنیادی ضروریات کو خطرہ لاحق ہو۔
## انسانی حقوق کی صحافت کی حمایت کریں
**انسانی حقوق کی صحافت کے فروغ اور ہمارے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ہمارا ساتھ دیں:**
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
## دستبرداری (Disclaimer)
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس، متعلقہ فریقین کے بیانات اور عوامی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکتی۔ ایچ آر این ڈبلیو کسی بھی عسکری، سیاسی یا ریاستی فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتا بلکہ انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ، امن، بین الاقوامی انسانی قانون اور ذمہ دار صحافت کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔


