کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے نیا ناظم آباد سے دو روز قبل مبینہ طور پر اغواء ہونے والے 2 سالہ معصوم بچے آذان علی خان کو بحفاظت بازیاب کر لیا۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق آذان علی خان کو دو روز قبل تھانہ منگھوپیر کی حدود، نیا ناظم آباد سے ایک موٹرسائیکل سوار ملزم مبینہ طور پر اغواء کرکے لے گیا تھا، جس کے بعد واقعے کا مقدمہ تھانہ منگھوپیر میں الزام نمبر 438/2026 کے تحت دفعہ 364-A تعزیراتِ پاکستان اور پریوینشن آف ٹریفکنگ اِن پرسنز ایکٹ 2018 کی دفعہ 3(2) کے تحت درج کیا گیا۔ منگھوپیر پولیس نے خفیہ اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹھٹہ کے قریب کامیاب آپریشن کے دوران مغوی بچے کو بحفاظت بازیاب کیا۔ ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے جدید خطوط پر تحقیقات کرتے ہوئے بچے کی بازیابی ممکن بنائی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بچے کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا جائے گا۔
### انسانی حقوق زاویہ
– بچوں کے اغواء اور ممکنہ اسمگلنگ، بچوں کے حقِ زندگی، آزادی اور حفاظت کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے جرائم کو روکنے کے لیے مؤثر قوانین، نفاذ اور نگرانی کو یقینی بنائیں۔
– اس نوعیت کے واقعات والدین اور کمیونٹی میں خوف اور عدمِ تحفظ کو بڑھاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ پولیس نہ صرف بروقت کارروائی کرے بلکہ عوام کو آگاہی دے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے کون سے احتیاطی اقدامات اور قانونی راستے موجود ہیں۔
– پریوینشن آف ٹریفکنگ اِن پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت مقدمہ قائم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ بچوں کے اغواء کو انسانی اسمگلنگ اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کے لیے سخت سزائیں اور شفاف عدالتی کاروائی ناگزیر ہے۔
### سپورٹ اپیل
ایسے حساس معاملات، خصوصاً بچوں کے حقوق، انسانی اسمگلنگ اور قانون کے نفاذ سے متعلق رپورٹس، آزاد، بے خوف اور تحقیق پر مبنی صحافت کے بغیر سامنے نہیں آ سکتیں۔ ہماری آزاد صحافت اور حقوقِ انسانی کی رپورٹنگ کی حمایت کریں — چندہ دینے کے لیے یہاں کلک کریں:
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)
### ڈسکلیمَر
یہ خبر دستیاب پولیس بیانات اور ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے، جو تفتیش کے جاری رہنے کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں۔ حتمی اور تازہ ترین تفصیلات کے لیے متعلقہ قانونی و ادارہ جاتی ذرائع، عدالت یا پولیس کی آفیشل ریلیز سے رجوع کیا جائے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے دی گئی تشریحات عمومی نوعیت کی ہیں اور کسی مخصوص کیس کے عدالتی فیصلے یا قانونی رائے کی جگہ نہیں لے سکتیں۔


