7

قائد آباد میں تین سالہ کلثوم قتل کیس میں سگی چچی اور رشتہ دار نادر گرفتار، اعترافِ جرم

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) قائد آباد میں تین سالہ بچی کلثوم کی تشدد زدہ بوری بند لاش گھر کے باہر سے ملنے کے لرزہ خیز واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایس ایس پی ملیر کے مطابق ملیر پولیس نے کلثوم کی سگی چچی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ننھی بچی کو بے دردی سے قتل کیا اور لاش بوری میں ڈال کر گھر کے باہر رکھوا دی۔ پولیس کے مطابق قاتلہ چچی نے اپنے بھائی نادر کے ذریعے لاش گھر کے باہر رکھوائی، جبکہ ننھی کلثوم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے محرکات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد 50 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان سب کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے، تاہم ابتدا میں کسی کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا۔ بعد ازاں نادر ولد اسماعیل شاہ، جو مقتولہ کے اہلِ خانہ کا قریبی رشتہ دار ہے، نے اعتراف کیا کہ اس نے لاش گھر منتقل کرنے میں مدد کی، اور کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔

انسانی حقوق زاویہ (مختصر):
– ننھی بچی پر بہیمانہ تشدد اور قتل بچوں کے حقِ زندگی، تحفظ اور وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ریاست، معاشرہ اور خاندان کی ذمہ داریوں کے بارے میں سخت سوالات اٹھاتا ہے۔
– قریبی رشتے داروں کی جانب سے تشدد اور قتل گھریلو سطح پر بچوں کے تحفظ، نفسیاتی مدد اور سماجی شعور میں موجود خلا کو نمایاں کرتا ہے۔
– ایسے واقعات میں شفاف تحقیقات، موثر عدالتی کارروائی، متاثرہ خاندان کی نفسیاتی و سماجی بحالی، اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات ناگزیر ہیں تاکہ بچوں کے خلاف تشدد کے رجحان کو روکا جا سکے۔

سپورٹ اپیل:
بچوں کے حقوق، صنفی تشدد اور کمزور طبقات کے خلاف جرائم جیسے حساس موضوعات پر آزاد، بے خوف اور ذمہ دار صحافت نہایت ضروری ہے۔ ہماری آزاد صحافت اور حقوقِ انسانی کی رپورٹنگ کی حمایت کریں — چندہ دینے کے لیے یہاں کلک کریں:
[http://www.hrnww.com/?page_id=1083](http://www.hrnww.com/?page_id=1083)

ڈسکلیمَر:
یہ خبر دستیاب پولیس بیانات اور ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے، جو تفتیش کے آگے بڑھنے کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔ حتمی اور تازہ ترین تفصیلات کے لیے متعلقہ قانونی اور ادارہ جاتی ذرائع، عدالت یا پولیس کی آفیشل ریلیز سے رجوع کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں