32

لاہور ہائیکورٹ کی اہم ہدایت: سٹے آرڈر کی درخواستیں 30 دن میں نمٹانے کا حکم

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں میں زیرِ التوا **عارضی حکمِ امتناعی (Temporary Injunction)** کی درخواستوں کے جلد فیصلے کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔

عدالتی ہدایت کے مطابق پنجاب کے تمام **ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز** کو پابند کیا گیا ہے کہ **آرڈر 39 رول 1 اور 2 ضابطہ دیوانی (Code of Civil Procedure – CPC)** کے تحت دائر ہونے والی تمام زیرِ التوا سٹے آرڈر کی درخواستیں، اور ان سے متعلق تمام متفرق (Miscellaneous) درخواستیں، **30 دن کے اندر** لازمی طور پر نمٹائی جائیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس سلسلے میں ہر ضلع سے **تعمیل (Compliance) رپورٹ** بھی طلب کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ماتحت عدالتیں ان ہدایات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کر رہی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد سٹے آرڈرز سے متعلق مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ، عدالتی کارروائی کو مؤثر بنانا اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عارضی حکمِ امتناعی کی درخواستوں پر بروقت فیصلے نہ ہونے سے کئی مقدمات طویل عرصے تک التوا کا شکار رہتے ہیں، جس سے فریقین کو قانونی، مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی یہ ہدایت ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے بروقت فیصلوں، عدالتی نظم و نسق میں بہتری اور انصاف کی تیز رفتار فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

### 🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**

انسانی حقوق، انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد پر مبنی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کا ساتھ دیں۔

👉 **[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

### ⚠️ **ڈسکلیمر**

یہ خبر لاہور ہائیکورٹ کی جاری کردہ عدالتی ہدایات اور دستیاب سرکاری معلومات کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے مقصد سے تیار کی گئی ہے۔ HRNW عدالتی کارروائی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ اگر اس حوالے سے مزید سرکاری وضاحت یا عدالتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو خبر کو بروقت اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں