21

ارباب بھیل نے مقدمات کے خاتمے اور نئے مقدمات کے اندراج کو روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سینٹرل جیل حیدرآباد میں قید کے دوران پولیس نے بدنیتی پر مبنی جھوٹے مقدمات درج کیے۔ درخواست گزار کے مطابق سی ٹی ڈی حیدرآباد، جامشورو، قاسم آباد، کاکر اور میرپور بٹھورو کے تھانوں میں اس کے خلاف بوگس مقدمات قائم کیے گئے۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پٹیشنر اور اس کے خاندان کو سیاسی انتقام اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حکمران جماعت اور بااثر وڈیروں کی مرضی کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور سول سوسائٹی کی آواز دبانے کے لیے سنگین مقدمات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA)، بغاوت اور غداری کی دفعات کا غلط استعمال کیا گیا، جبکہ ایف آئی آرز میں کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت، چشم دید گواہ یا فارنزک لنک موجود نہیں۔ لہٰذا ان مقدمات کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر درخواست گزار کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج کرنے سے روکا جائے، اور تمام مقدمات کی شفاف تفتیش کے لیے کسی ایماندار اور ایس ایس پی سطح کے افسر کو تعینات کیا جائے۔

درخواست میں سیکرٹری ہوم، آئی جی سندھ، اے آئی جی سی ٹی ڈی اور مختلف اضلاع کے ایس ایس پیز کو فریق بنایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں