22

تیل کے نرخ کم کرنے اور قیمتوں کے تعین کے خلاف آئینی درخواست خارج

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عدالت نے تیل کے نرخ کم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کے بعد وکلا کے دلائل سن کر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔ عدالت نے آئینی درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کر دی۔

حکم نامے میں عدالت کا کہنا تھا کہ پٹرولیم قیمتوں اور ٹیکسوں کا تعین حکومت اور مقننہ کا اختیار ہے، عدالت مقننہ اور ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کو ترتیب دینا حکومت کا کام ہے، عدالتی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ بنیادی حقوق کے دائرۂ اختیار کا استعمال صرف غیر قانونی یا من مانے حکومتی اقدامات کی صورت میں کیا جا سکتا ہے، جبکہ درخواست گزار کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ صرف پٹرولیم قیمتوں پر عدم اطمینان آئینی درخواست دائر کرنے کا جواز نہیں بنتا۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقۂ کار غیر قانونی قرار دیا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں کمی اور قیمتیں فوری کم کرنے کا حکم دینے، پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو معطل کرنے اور قیمتوں کے تعین کے شفاف فارمولے کی عدم موجودگی کا بھی مؤقف اپنایا گیا۔

درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی کہ عالمی مارکیٹ سے ملک میں سپلائی تک تیل پر عائد لیوی، ٹیکسز اور دیگر اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا حکم دیا جائے، تاہم عدالت نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے آئینی درخواست خارج کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں