استنبول (ایچ آراین ڈبلیو) بھارت کی مودی حکومت نے اپنی پاکستان دشمن پالیسی کو وسعت دیتے ہوئے ترکی اور آذربائیجان کے خلاف نئی سفارتی، تجارتی اور تعلیمی محاذ آرائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ترکی سے آنے والے سیب، ماربل اور دیگر اشیائے خوردونوش کی درآمدات پر غیر علانیہ پابندی کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جواہرات فروش اور زیورات ڈیزائنرز نے روایتی ترک زیورات کی نمائش اور فروخت بند کر دی ہے۔
مودی سرکار نے ترکی سے تعلیمی روابط بھی منقطع کر دیے ہیں۔ جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو حکومتی دباؤ کے تحت ترک اداروں کے ساتھ جاری تعلیمی معاہدے ختم کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
بھارتی فلمی پروڈکشن ہاؤسز کو ترکی اور آذربائیجان میں شوٹنگ سے روک دیا گیا ہے۔ فلمی بورڈ نے تنبیہ کی ہے کہ جو ادارے ترک و آذری لوکیشنز پر فلم بندی کریں گے، ان کے مواد پر بائیکاٹ مسلط کر دیا جائے گا۔


