9

رہائشی پلاٹ پر مبینہ کمرشل تعمیرات، 80 لاکھ روپے کی مبینہ رشوت کے عوض غیرقانونی کام کی اجازت؟ کراچی میں SBCA کی کارکردگی پر سنگین سوالات

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ رکنے کے بجائے مزید تیزی سے جاری ہے، جبکہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق متعلقہ ادارے کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

تازہ شکایت کے مطابق **بلاک 11، پلاٹ نمبر B-153** پر رہائشی مقصد کے لیے مختص پلاٹ پر مبینہ طور پر بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے کمرشل نوعیت کی تعمیرات جاری ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) سے قانونی منظوری حاصل نہیں کی گئی، اس کے باوجود تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔

شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ **بلڈنگ انسپکٹر عابد شاہ** اور **ریاض جاکھرو** نے مبینہ طور پر **80 لاکھ روپے** کے پیکیج پر معاملہ طے کرکے غیرقانونی تعمیرات کی اجازت دی۔ اگرچہ اس الزام کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی مبینہ ملی بھگت ہی کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کے فروغ کی بنیادی وجہ بن چکی ہے۔

مقامی مکینوں کے مطابق رہائشی پلاٹوں کو کمرشل منصوبوں میں تبدیل کرنے سے نہ صرف علاقے کا ماسٹر پلان متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ، سیوریج، پانی کی فراہمی، بجلی کے نظام اور دیگر شہری سہولیات پر بھی شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں تو غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ فوری طور پر روکا جا سکتا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں متعدد رہائشی علاقوں میں منظور شدہ نقشوں کی خلاف ورزی، اضافی منزلوں کی تعمیر، کمپلسری اوپن اسپیس (COS) پر قبضہ اور رہائشی پلاٹوں کی غیرقانونی کمرشلائزیشن معمول بنتی جا رہی ہے، جبکہ شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی سرکاری اہلکار نے رشوت لے کر غیرقانونی تعمیرات کی اجازت دی ہو تو یہ نہ صرف محکمانہ بدعنوانی بلکہ فوجداری قوانین اور انسدادِ بدعنوانی قوانین کے تحت بھی قابلِ کارروائی جرم ہو سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔

علاقہ مکینوں نے **وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، نیب، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل** اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:

* پلاٹ نمبر **B-153 بلاک 11** کی تعمیرات کا فوری سروے اور معائنہ کیا جائے۔
* منظور شدہ نقشہ، این او سی اور دیگر قانونی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔
* اگر تعمیرات غیرقانونی ثابت ہوں تو فوری طور پر کام بند کروا کر قانونی کارروائی کی جائے۔
* مبینہ طور پر رشوت لینے یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افسران کے خلاف غیرجانبدارانہ انکوائری کرکے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
* کراچی میں جاری غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال اور شہر کے ماسٹر پلان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

### **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر مقامی ذرائع، شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور الزامات پر مبنی ہے۔ **HRNW** ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔ متعلقہ افسران، بلڈر، **سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)** یا کسی بھی سرکاری ادارے کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے مکمل دیانت داری اور غیرجانبداری کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

### **HRNW کی حمایت کریں**

آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے ہماری معاونت کریں:

**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

اپنا تبصرہ بھیجیں