کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)قائد آباد میں 3 سالہ کلثوم سے مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کرنے کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔پولیس نے 8 مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے۔ ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ مشتبہ افراد میں 3 سالہ کلثوم کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں، تمام افراد کو نمونے دینے کیلیے جناح اسپتال بھیجا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اب تک کے شواہد کے مطابق واردات میں قریبی رشتہ دار ملوث ہو سکتا ہے، 3 سلاہ کلثوم کی لاش گھر کی راہداری میں گیٹ کے ساتھ ہی بوری میں ملی تھی۔
قبل ازیں، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کیس کی جامع اور شفاف تحقیقات کیلیے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی، جس کے سربراہ ڈی آئی جی ایسٹ ہوں گے۔
آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں کہا گیا کہ اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہم افسران شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایس ایس پی ایس آئی یو ، ایس ایس پی ملیر، ایس ایس پی اسپیشل برانچ انٹیلی جنس، ایس پی انویسٹی گیشن ملیر، متعلقہ ڈی ایس پی، ایس آئی او اور تفتیشی افسر شامل ہیں۔
یہ کمیٹی مبینہ زیادتی اور قتل کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت سے آئی جی سندھ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھے گی۔
اس موقع پر آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والے اس گھناؤنے واقعے میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
انہوں نے ماتحت افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد سے جلد قانون کی گرفت میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔


