کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC) کے مختلف شعبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، سرکاری اراضی، این او سیز، تعمیراتی اجازت ناموں، ٹھیکوں اور نیلامیوں سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف پارکس اور حساس سرکاری اراضی کا ریکارڈ طلب کیا جا رہا ہے، جن میں کڈنی ہل پارک، عمر شریف پارک اور جھیل پارک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
اسی طرح صدر، کلفٹن، گزری، ہاکس بے اور اورنگی ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں جاری این او سیز اور تعمیراتی اجازت ناموں کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 پیٹرول پمپس، سلاٹر ہاؤس کی 40 ایکڑ زمین، یوسف گوٹھ بس ٹرمینل اور دیگر منصوبوں سے متعلق ریکارڈ بھی تحقیقات کے دائرے میں ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق بعض انتظامی معاملات اور مبینہ نیٹ ورکنگ سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم ان الزامات کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر لیگل، ڈی ایم سیز اور دیگر محکموں سے منسلک تقرریوں، ڈیپوٹیشنز اور متنازع نیلامیوں کی بھی چھان بین جاری ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام معاملات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی یا اختیارات کے غلط استعمال کو قانون کے مطابق سامنے لایا جا سکے۔


