پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکے ہیں حالیہ برسوں میں جہاں دنیا کے بیشتر ممالک نے پولیو کا مکمل خاتمہ کر لیا ہے وہیں پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں یہ موذی مرض ابھی تک موجود ہے یہ بیماری بچوں کو مستقل معذوری کا شکار بنا سکتی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے پولیو وائرس کی واپسی نے صحت عامہ کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے رواں ماہ انسداد پولیو مہم کے دوران شہر قائد میں 6 سے 12 مئی کے دوران کراچی میں انسداد پولیو مہم کے دوران 37 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے جبکہ کراچی میں 88 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کا ہدف مقرر تھاجبکہ اندرون سندھ میں 21 اضلاع میں 66 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلائے گئے جبکہ کراچی کے 7 اضلاع میں مہم کے دوران 27 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف تھاپولیو کیسز کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ بعض علاقوں میں والدین کی جانب سے ویکسینیشن سے انکار اور صحت سے متعلق غلط فہمیاں ہیںکئی مقامات پر پولیو ٹیموں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی بنیادی وجہ عوام میں پھیلائی جانے والی افواہیں اور سازشی نظریات ہیں اس کے علاوہ سیکورٹی خدشات کے باعث پولیو مہمات میں تعطل آنا بھی وائرس کے پھیلاو¿ میں اہم کردار ادا کر رہا ہےپاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور عالمی ادارے مسلسل کوشش کر رہے ہیںویکسینیشن مہمات کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں لیکن ان کوششوں کی کامیابی عوامی شعور، مقامی قیادت کی حمایت اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات سے مشروط ہے صرف ویکسین پلانے سے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویے میں تبدیلی لا کر ہی اس مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، سماجی تنظیمیں اور مذہبی رہنما مل کر لوگوں میں پولیو ویکسین کی اہمیت کو اجاگر کریں گاو¿ں گاو¿ں اور گھر گھر جا کر والدین کو قائل کیا جائے کہ ویکسین ان کے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے اگر ہم سب مل کر اس مہم کو سنجیدگی سے لیں تو پاکستان بھی جلد ہی پولیو فری ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی نہ صرف صحت عامہ کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ملک کی عالمی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے ہر سال بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیںمگر اس کے باوجود ملک میں نئے کیسز سامنے آنا لمحہ فکریہ ہے ان کیسز کی موجودگی نے بیرونی سفر پر بھی اثرات ڈالے ہیں اور کئی ممالک نے پاکستانی شہریوں کے لیے پولیو ویکسین سرٹیفیکیٹ کو لازم قرار دیا ہے پولیو وائرس کی جڑیں غربت، کم تعلیمی شرح اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی سے بھی جڑی ہوئی ہیں پاکستان کے دور دراز اور قبائلی علاقوں میں نہ صرف ویکسینیشن ٹیموں کو رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ وہاں کے لوگ بھی جدید طبی سہولیات سے محروم ہیںاس خلا کو پر کرنے کے لیے حکومت کو بنیادی صحت ڈھانچے کو بہتر بنانے اور دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے بدقسمتی سے پولیو کے خلاف جدوجہد میں کئی پولیو ورکرز کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے دہشت گرد عناصر پولیو ٹیموں کو نشانہ بنا کر اس قومی مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ان ورکرز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنا کام انجام دے سکیںاس کے علاوہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے عوام میں پولیو کے خلاف مثبت رویے پیدا کرنے کی ضرورت ہے علمائے کرام اور مذہبی رہنما بھی لوگوں میں پولیو کے خلاف شعور اجاگر کر سکتے ہیں کیونکہ کئی والدین مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنیاد پر ویکسینیشن سے انکار کرتے ہیں اگر یہ پیغام گھر گھر پہنچے کہ پولیو ویکسین بچوں کی صحت کے لیے نہایت اہم ہے تو ہم اس خطرناک بیماری کو جلد پاکستان سے ختم کر سکتے ہیں


