کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی درخواست نمٹا دی۔درخواست گزار ثانیہ اور ان کے شوہر سعد علی خان نے اپنے خلاف مبینہ طور پر درج اغوا کے جھوٹے مقدمے کے بعد سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ دونوں میاں بیوی نے لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے ذریعے آئینی پٹیشن دائر کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سعد علی خان نے ثانیہ کو اسلام قبول کرا کر شادی کی، جس پر ثانیہ کے بھائی نوید انجم، جو کراچی پولیس آفس میں وائرلیس آپریٹر ہیں، کی جانب سے مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔
وکیل کے مطابق پہلے ڈسٹرکٹ جج سینٹرل نے بھی دونوں میاں بیوی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل کو سیکیورٹی دینے کی ہدایت کی تھی۔
مزید بتایا گیا کہ بعد ازاں ثانیہ کے بھائی نے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا، تاہم وکیل کے مطابق یہ معاملہ مشکوک نوعیت کا تھا اور بعد میں پولیس نے مقدمہ “بی کلاس” کر دیا۔
دونوں میاں بیوی کو پہلے ہی ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی تھی، جو ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 10 کراچی سینٹرل نے کنفرم کی تھی۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سلیم جسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل بینچ نے سماعت کے بعد درخواست نمٹاتے ہوئے میاں بیوی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے کیس نمبر CP.D.2246/2026 نمٹا دیا۔


