**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے پاسپورٹ آفس صدر کراچی میں مبینہ ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاسپورٹ آفس کے ایک ملازم سمیت دو افراد کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد میں مبینہ ایجنٹ **محمد یوسف** اور پاسپورٹ آفس صدر کا ایل ڈی سی **ریحان** شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ملزمان پر شہریوں سے جلد پاسپورٹ بنوانے، نامکمل دستاویزات پر پاسپورٹ کے حصول میں سہولت فراہم کرنے اور سرکاری طریقہ کار کو مبینہ طور پر بائی پاس کرانے کے نام پر رقم وصول کرنے کے الزامات ہیں۔
ایف آئی اے نے پاسپورٹ آفس صدر میں سرگرم مبینہ ایجنٹ مافیا کے نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ تفتیش کے دوران نیٹ ورک سے منسلک دیگر سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ سرکاری اہلکاروں کے ممکنہ کردار کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمے کے اندراج کی کارروائی جاری ہے، جبکہ تحقیقات میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کی صورت میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
سرکاری خدمات کے حصول کے لیے شہریوں سے غیر قانونی رقوم وصول کرنا اور سرکاری طریقۂ کار میں رکاوٹ ڈالنا شہریوں کے مساوی اور شفاف عوامی خدمات کے حق کو متاثر کرتا ہے۔ تحقیقات کے دوران شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور تمام فریقین کو منصفانہ قانونی عمل فراہم کرنا ضروری ہے۔
### انسانی حقوق سپورٹ اپیل
**(ایچ آراین ڈبلیو)** انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحافتی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انسانی حقوق کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہماری سرگرمیوں کی حمایت کریں:
[HRNW سپورٹ اپیل](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر ایف آئی اے حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور عدالت سے جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان کو قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جائے گا۔


