کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)انمول عرف پنکی کیس کی سماعت کے دوران صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور مبینہ ناروا سلوک کے خلاف سوسائٹی آف کورٹ رپورٹرز نے شدید احتجاج اور مذمت کی ہے۔
سوسائٹی آف کورٹ رپورٹرز کے صدر لیاقت علی رانا، جنرل سیکریٹری سکندر علی بھٹو اور دیگر عہدیداران نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس سینٹرل جیل کراچی میں منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی صحافیوں کو کیس کی کوریج سے روکا گیا۔
بیان کے مطابق ضلعی پولیس اور جیل پولیس کی جانب سے صحافیوں کو دھکے دینے، دھمکیاں دینے اور توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کے واقعات پیش آئے، جو کہ آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ کے مترادف ہیں۔
سوسائٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتوں میں ہائی پروفائل مقدمات کی رپورٹنگ صحافیوں کی ذمہ داری ہے، اور انہیں اس سے روکنا نہ صرف آزادیٔ اظہار بلکہ شفاف نظامِ انصاف کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
بیان میں سندھ حکومت کے وزراء، آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو، آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سوسائٹی آف کورٹ رپورٹرز نے واضح کیا کہ صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا، اور اس حوالے سے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔


