بلوچستان(ایچ آراین ڈبلیو) ہائی کورٹ میں ترقیاتی منصوبوں اور کمرشل تعمیرات سے متعلق مختلف کیسز کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
عدالت نے سمنگلی روڈ، زرغون روڈ اور امداد چوک بہتری منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کی جائے اور کام کی رفتار تیز کی جائے۔
عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ، CMPQD اور BTEB کو جامع ٹریفک پلان جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریلوے اسٹیشن اور کولون روڈ یوٹرنز پر ٹریفک مسائل کی نشاندہی پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
سماعت کے دوران بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو نے عدالت کو ہائی کورٹ کے اطراف ٹریفک پلان پر بریفنگ دی۔ عدالت نے سمنگلی روڈ پر اسفالٹ کی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے منصوبوں کی پیش رفت رپورٹس باقاعدگی سے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو خصوصی کمیٹیوں میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کا بھی حکم دیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت 4 جون 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ میں جوائنٹ روڈ اور انسکمب روڈ پر کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس کی بھی سماعت ہوئی۔
اس کیس میں ریلوے اور ریڈامکو کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے بعد جوائنٹ روڈ پر متنازعہ پلاٹس کی بولی اور دیگر کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
ریڈامکو نے جامع سروے اور ٹریفک جائزے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جبکہ فلنگ اسٹیشن پلاٹ کی لیز کے عوض 29.6 ملین روپے وصول ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا۔
پاکستان ریلوے نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تمام کمرشل تعمیراتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2024-25 میں دی گئی دکانوں کی اراضی لیز پر دی گئی تھی، تاہم مزید کارروائی جامع سروے اور این او سی کے بعد کی جائے گی۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر میں مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی، جبکہ کیس کی مزید سماعت بھی 4 جون 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔


