کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو)بلوچستان ہائی کورٹ میں جوائنٹ روڈ اور انسکمب روڈ پر کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کی۔
سماعت کے دوران ریلوے اور ریڈامکو کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے بعد جوائنٹ روڈ پر متنازعہ پلاٹس کی بولی اور دیگر کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
ریڈامکو حکام نے عدالت سے جامع سروے اور ٹریفک جائزے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ اس موقع پر فلنگ اسٹیشن پلاٹ کی لیز کے عوض 29.6 ملین روپے وصول ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا۔
پاکستان ریلوے کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی کہ تمام کمرشل تعمیراتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ درخواست گزار نے جوائنٹ روڈ پر دوبارہ دکانوں کی تعمیر کے معاملے کو عدالت میں اٹھایا۔
ریلوے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ 2024-25 میں دی گئی دکانوں کی اراضی لیز پر دی گئی تھی، تاہم جامع سروے اور ضلعی انتظامیہ سے این او سی کے بعد ہی مزید کارروائی کی جائے گی۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر میں مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے محمود الرحمٰن لاکھو کو آئندہ سماعت تک ذاتی پیشی سے استثنیٰ دے دیا گیا۔
مزید سماعت 4 جون 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔


