کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) انصاف لائرز فورم کراچی ڈویزن کے سینیئر رہنما و معروف قانوندان ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کراچی شہر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں چرس، آفیم، آئس، ہیروئن، شراب، گٹکا، ماوا، ممنوعہ چھالیہ اور پڑیوں کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جس سے نوجوان نسل تیزی سے تباہی کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ مکروہ دھندا مبینہ طور پر بعض بااثر عناصر اور پولیس کی سرپرستی میں جاری ہے، جس کے باعث منشیات فروش قانون کی گرفت سے آزاد ہو کر شہریوں خصوصاً نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں۔ کراچی کے تعلیمی اداروں، گلی محلوں اور عوامی مقامات پر منشیات کی آسان دستیابی لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔
ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ گٹکا، ماوا اور ممنوعہ چھالیہ نے نوجوانوں اور کم عمر بچوں کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ آئس اور ہیروئن جیسے خطرناک نشے جرائم کی بڑی وجہ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔
انہوں نے حکومت سندھ، محکمہ داخلہ، آئی جی سندھ، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں منشیات فروشوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے۔ ایسے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث پائے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام خصوصاً والدین شدید خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں کیونکہ منشیات فروش عناصر نوجوان نسل کو دانستہ تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف لائرز فورم کراچی ڈویزن ہر سطح پر اس ناسور کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا اور شہریوں کے جان و مال اور مستقبل کے تحفظ کے لیے قانونی و آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔


