اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) وفاقی دارالحکومت کے تھانہ لوہی بھیر کی حدود میں ایک گھناؤنا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نوعمر لڑکی کو مبینہ طور پر بدفعلی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں زیرِ دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں متاثرہ لڑکی کی والدہ (ساکن پاکستان ٹاؤن، فیز 1) نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ محنت مزدوری کرتی ہیں اور ان کی چار بیٹیاں ہیں۔ 15 اور 16 مئی کی درمیانی شب وہ مارکیٹ سے دودھ لینے گئی ہوئی تھیں، جبکہ ان کی دو بیٹیاں (نور فاطمہ اور جنت فاطمہ) گھر پر موجود تھیں۔
مبینہ زیادتی کا واقعہ: درخواست گزار کے مطابق جب وہ تقریباً رات 1 بجے واپس گھر لوٹیں، تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے پڑوس میں رہنے والا کباڑی کا کام کرنے والا شخص، سلطان ولد کلیم احمد خان، ان کے گھر کے صحن سے نکل رہا تھا۔
ملزم کا فرار: جب اس سے رات کے اس پہر گھر میں داخل ہونے کی وجہ پوچھی گئی، تو ملزم نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا، کہا کہ “میں آپ کی بیٹی کو مارنے آیا ہوں”، اور موقع سے فرار ہو گیا۔
متاثرہ کی حالتِ زار: والدہ جب کمرے میں داخل ہوئیں تو ان کی بیٹی شدید گھبرائی ہوئی اور رو رہی تھی، جس نے بتایا کہ ملزم نے زبردستی گھر میں داخل ہو کر اس کے ساتھ زیادتی (بدفعلی) کی
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔ متاثرہ لڑکی کو طبی معائنے اور میڈیکل چیک اپ کے لیے پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے ملنے والی ابتدائی طبی رپورٹ اور شواہد کی بنیاد پر جرم دفعہ 376 PPC کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر نمبر 327/26 درج کر لی گئی ہے۔
تھانہ لوہی بھیر کے اے ایس آئی (ASI) ذوالفقار علی کے مطابق مقدمے کی تفتیش میرٹ پر جاری ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ اعلیٰ پولیس حکام نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت جاری کی ہے۔


