ٹنڈو محمد خان(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں منشیات فروشی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران ایک اور ہائی پروفائل کیس سامنے آ گیا ہے، جہاں چند روز قبل برطرف کیے جانے والے سابق سول جج زاہد حسین مغیری کو ٹنڈو محمد خان پولیس نے مبینہ طور پر بھاری مقدار میں منشیات سمیت گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے نے عدالتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 14 مئی 2026 کو ٹنڈو محمد خان میں ایک پولیس پکٹ نے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد، منیر ملاح اور بلاول سومرو کو مبینہ منشیات سمیت گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کراچی کے ایک ڈیلر ’’زاہد‘‘ سے منشیات حاصل کرتے ہیں۔
پولیس نے حکمت عملی کے تحت ملزمان سے مذکورہ ڈیلر کو مزید منشیات سپلائی کے لیے رابطہ کروایا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم زاہد نے سفید رنگ کی یارس گاڑی میں ٹنڈو محمد خان پہنچنے کی اطلاع دی، جس پر پولیس نے فون لوکیشن کے ذریعے نگرانی شروع کر دی۔
شام تقریباً ساڑھے چار بجے مشتبہ گاڑی کو روک کر تلاشی لی گئی تو مبینہ طور پر منشیات برآمد ہوئیں۔ ملزم نے ابتدائی طور پر خود کو سول جج ظاہر کیا، تاہم بعد ازاں ہائی کورٹ ذرائع سے تصدیق پر معلوم ہوا کہ وہ سابق سول جج زاہد حسین مغیری ہے، جسے اپریل 2026 میں ملازمت سے برطرف کیا جا چکا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کے خلاف مختلف دفعات کے تحت تین مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
زاہد حسین مغیری کی برطرفی کا معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب گلستانِ جوہر میں پولیس اہلکاروں پر ایک شہری کو حراست میں لے کر مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کا الزام سامنے آیا۔ اس واقعے کی انکوائری اُس وقت کے اے ایس پی معروف میمن کے سپرد کی گئی تھی، جنہوں نے سی سی ٹی وی اور اے ٹی ایم ریکارڈ کی مدد سے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔
ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش یہ انکشاف ہوا کہ گرفتار اہلکاروں کے علاقائی مجسٹریٹ زاہد حسین مغیری سے مبینہ روابط تھے۔ پولیس افسران نے الزام عائد کیا کہ مجسٹریٹ نے تھانے پہنچ کر گرفتار اہلکاروں کو رہا کروانے کی کوشش کی اور بعد ازاں انہیں قانونی ریلیف بھی فراہم کیا۔
اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کرائی، جس میں ضابطہ کار کی خلاف ورزیوں اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے شواہد سامنے آئے۔ بعد ازاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر راجپوت نے سینئر جسٹس اقبال کلہوڑو کی سفارش پر 21 اپریل 2026 کو زاہد حسین مغیری کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
قانونی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس کیس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس میں پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، حساس اداروں اور عدلیہ کے نمائندے شامل ہوں، تاکہ تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق یہ کیس سندھ میں منشیات کے نیٹ ورک، پولیس و عدالتی روابط اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔


