وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے ڈائس کی حالت پر تشویش، تعلیمی ماحول پر سوالات اٹھ گئے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی اردو یونیورسٹی کے گلشن کیمپس میں قائم ڈائس کی خستہ حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں حال ہی میں فیک نیوز یا جعلی خبروں کے موضوع پر ایک پروگرام منعقد ہوا۔اس ڈائس پر صحافیوں اور صحافتی ماہرانہ رائے رکھنے والے افراد نےتجزیے،تبصرے اوراپنےتجربات طلبہ کےساتھ شیئر کیے، تاہم پروگرام کے اسٹیج اور ماحول کی حالت دیکھ کر شرکاء اور مبصرین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کے مطابق ڈائس کی مجموعی صورتحال نہ صرف غیر معیاری تھی بلکہ تعلیمی ادارے کے وقار کے بھی منافی نظر آئی۔

تعلیمی ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول کا براہِ راست اثر طلبہ کی نفسیات اور سوچ پر پڑتا ہے، اور ماہرینِ نفسیات سے اس حوالے سے رائے لی جائے تو نتائج مزید تشویشناک ہو سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طلبہ اس ماحول میں مثبت اور باوقار تربیت حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ناقدین کے مطابق ڈائس کی حالت دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ نہ تو یونیورسٹی انتظامیہ اور نہ ہی اساتذہ و طلبہ تعلیمی معیار اور نظم و ضبط کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، بلکہ تعلیم محض وقت گزاری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جہاں مقصد صرف ڈگری حاصل کر کے کسی میڈیا ادارے میں ملازمت کرنا معلوم ہوتا ہے۔

سماجی حلقوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ صفائی نصف ایمان ہے، جو اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے، تاہم عملی طور پر ان تعلیمات پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق باوقار قومیں اپنے تعلیمی اداروں، طرزِ عمل، سیکھنے اور سکھانے کے طریقوں کو بھی باوقار رکھتی ہیں۔اگرچہ یہ معاملہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جب اس ڈائس پر بننے والی تصاویر اخبارات اور میڈیا میں شائع ہوں گی تو یہ ایک غیر معمولی اور منفی تاثر پیدا کریں گی، جو تعلیمی ادارے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں