اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وزارت خزانہ پاکستان کی حالیہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ میں ملک کی معیشت کے اہم اشاریوں کے حوالے سے تشویش ناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔جولائی تا مارچ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر ساڑھے 23 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں 5.8 فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 7.9 فیصد اضافہ بتایا گیا ہے۔ اسی طرح براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں بھی 27 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا حجم کم ہو کر 1.35 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔
معیشت کے مثبت پہلوؤں میں رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی طرح ایف بی آر کے محصولات میں 10 فیصد اور نان ٹیکس ریونیو میں 7.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 20.6 ارب ڈالر ہیں، جن میں سے 15.1 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.9 فیصد اضافہ اور زرعی قرضوں کی فراہمی میں 14.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مارچ میں افراطِ زر کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں مجموعی معاشی صورتحال کو ملا جلا قرار دیتے ہوئے چیلنجز پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔


