اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی مبینہ نشانہ سازی: عدلیہ کی آزادی پر حملے کے سنگین الزامات

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو):** معروف صحافی سحرش مان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان 6 ججوں کے خلاف ہونے والی مبینہ حکومتی کارروائیوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں جنہوں نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر عدالتی معاملات میں مداخلت اور نظام کی خرابیوں کو بے نقاب کیا تھا۔

سحرش مان کے مطابق، اس خط پر کوئی تعمیری ایکشن لینے کے بجائے ریاست کی جانب سے مذکورہ ججوں کو “نشان عبرت” بنانے کا عمل شروع کیا گیا۔ ان الزامات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس جہانگیری کو ڈگری کیس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دیگر ججوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے **26 ویں آئینی ترمیم** کا سہارا لیا گیا تاکہ اپنی مرضی کے ججوں کی راہ ہموار کی جا سکے۔

### **عدالتی خود مختاری پر سوالات اور “ڈوگر کورٹ” کا تذکرہ**
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ترامیم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی حیثیت محض ایک “عضوِ معطل” کی رہ گئی ہے اور عدالت کے اختیارات کو سلب کر لیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کا موازنہ “ڈوگر کورٹ” کے دور سے کیا جا رہا ہے جہاں صرف وہ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہوتی ہیں جو حکومت کے لیے بے ضرر ہوں، جبکہ حساس نوعیت کے کیسز فائلوں کے نیچے دبا دیے جاتے ہیں۔

### **دور دراز علاقوں میں تبادلوں کی منصوبہ بندی**
تازہ ترین انکشافات کے مطابق، حکومت اب ان 5 ججوں کی موجودگی سے بھی مطمئن نہیں ہے اور انہیں اسلام آباد سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں جیسے **چمن بارڈر، چیچو کی ملیاں اور چک چوبیس** منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اس اقدام کا مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان ججوں کو مرکز سے دور کر دیا جائے تاکہ ان کے فیصلے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کے لیے وہ مشکلات پیدا نہ کر سکیں جو اسلام آباد میں رہتے ہوئے ممکن تھیں۔ قانونی ماہرین اس ممکنہ اقدام کو عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی ایک منظم کوشش قرار دے رہے ہیں۔

**اپیل برائے تعاون:**
انسانی حقوق اور عوامی مسائل کی بروقت آواز بننے والے دنیا کے نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز پورٹل **HRNW** کی حمایت کریں۔ آپ کے تعاون سے ہم سچائی کی ترویج اور مظلوموں کی آواز بننے کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
مدد کے لیے اس لنک پر کلک کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

اپنا تبصرہ بھیجیں