کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے افسران ڈائریکٹر اشفاق کھوکھر، ڈپٹی الطاف کھوکھر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفتاب زرداری نے بغیر نقشہ منظوری کے ہی عمارتیں بنوانا شروع کر دیں
ان راشیوں کی ہوس اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے نقشہ کے پیسے بھی جیب میں ڈال کر بلڈر کو غیرقانونی تعمیرات کا لائسنس کھلے عام دے دیا
پلاٹ نمبر 56 شیٹ نمبر NP-3 میں بننے والی یہ عمارت مکمل طور پر بغیر نقشہ کے تعمیر کی جارہی ہے جس میں 12 دکانیں اور تین منزلہ فلیٹس بھی شامل ہیں
آصف نامی بلڈر یہ غیرقانونی عمارت مذکورہ بالا افسران اور خاص کر آفتاب زرداری کی سرپرستی میں تعمیر کر رہا ہے اور اس نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے کا نذرانہ بھینٹ چڑھایا ہے
ضلع ساؤتھ میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کی 17 شکایت جو ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ نے داخل کی تھیں اور جس کی اپیلٹ کمیٹی کے سامنے ہیئرنگ بھی ہوئی اس میں یہ عمارت بھی شامل تھی،
بعد ازاں اپیلٹ کمیٹی نے ان شکایتوں پر فیصلہ دیتے ہوئے 45 دن کے اندر تمام غیرقانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن پورا ایک ماہ گزرنے کے بعد کسی بھی غیرقانونی عمارت پر کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا اور آفتاب زرداری نے یہ آرڈر بلڈر کو دکھا کر اور ڈرا کر مزید کروڑوں روپے ڈکار لئے
امید ہے کہ 15 دنوں میں غیرقانونی عمارتوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی، عدالت میں اپیلٹ کمیٹی کے فیصلہ پر عمل درآمد نہ کرنے پر ان افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے ساتھ تمام 17 غیرقانونی تعمیرات پر کرمنل کیس دائر کردیں گے، ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ


