**لاہور (ایچ آر این ڈبلیو)** وزیراعلیٰ پنجاب کی سخت ہدایات اور آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کے حالیہ نوٹسز کے باوجود صوبائی دارالحکومت میں پولیس گردی اور شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ شہر میں ایک ہی وقت میں پولیس تشدد کے دو بڑے واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے پولیس کے سپروائزری نظام پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
**حالیہ واقعات کی تفصیلات:**
پولیس تشدد کا پہلا واقعہ **تھانہ ڈیفنس اے** میں جبکہ دوسرا **تھانہ غالب مارکیٹ** میں پیش آیا۔ ان واقعات میں شہریوں پر تشدد اور انہیں غیر قانونی طور پر محبوس رکھنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز اور انویسٹی گیشن لاہور نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اصل ذمہ دار اب بھی عہدوں پر برقرار ہیں۔
**سپروائزری افسران پر انگلیاں اٹھ گئیں:**
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈیفنس اے کے واقعے کی مکمل ذمہ دار **اے ایس پی بریرہ** ہیں۔ ایک متاثرہ پولیس کانسٹیبل کے مطابق، اے ایس پی میڈم بریرہ کے حکم پر ہی ایک گھریلو ملازمہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔
* **تضاد:** ڈیفنس اے کے واقعے میں صرف ایس ایچ او اور غالب مارکیٹ کے معاملے میں صرف انچارج انویسٹی گیشن کو معطل یا کلوز کیا گیا ہے، جبکہ ماتحت عملے کا موقف ہے کہ انہوں نے تمام اقدامات اپنے سپروائزری افسران کے کہنے پر کیے۔
**آئی جی پنجاب کی سابقہ کارروائیاں اور موجودہ خاموشی:**
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے چارج سنبھالتے ہی **ایس ایچ او کاہنہ اسد عباس** اور **ایس ڈی پی او کاہنہ آغا فصیح** کو چوکی لکھوکی میں ایک شہری پر تشدد اور غیر قانونی حراست کے معاملے میں ناقص سپروائزن پر کلوز کر دیا تھا۔ تاہم، اب ڈیفنس اور غالب مارکیٹ کے سنگین واقعات پر بڑے افسران کے خلاف تاحال کوئی سخت ایکشن سامنے نہیں آیا، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کارروائی صرف چھوٹے اہلکاروں تک محدود ہے۔
**ماتحت عملے کی اپیل:**
متاثرہ ماتحت اہلکاروں نے آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ ان واقعات کا ازخود نوٹس لیں اور صرف پیادوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان افسران کے خلاف بھی کارروائی کریں جن کے احکامات پر یہ غیر قانونی اقدامات کیے گئے۔
انسانی حقوق اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے ہمارے مشن کا حصہ بنیں۔ آپ کے تعاون سے ہم مظلوموں کی آواز بن سکتے ہیں۔ براہ کرم اس لنک کے ذریعے اپنی عطیات جمع کروائیں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)


