کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ناظم آباد سمیت ضلع وسطی میں غیرقانونی پورشنز اور تعمیرات کے خلاف جاری آپریشن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق پورشنز کی روک تھام کے سرکاری دعوے تاحال عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکے، جبکہ متعلقہ اداروں کی مبینہ خاموشی پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ناظم آباد نمبر 1 کے مختلف پلاٹس، جن میں بلاک 1H کے پلاٹ نمبر 8/9 اور 1/4 شامل ہیں، پر مبینہ طور پر غیرقانونی پورشنز کی تعمیر جاری ہے، تاہم متعلقہ افسران کی جانب سے کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلڈرز اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کے درمیان مبینہ طور پر مالی معاملات اور رشوت کے لین دین کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں متعلقہ حلقوں میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
مزید برآں ناظم آباد نمبر 2 میں بھی غیرقانونی تعمیرات کے دوبارہ آغاز کی اطلاعات ہیں، جہاں بلاک 2E کے پلاٹ نمبر 8/17 اور بلاک 2F کے پلاٹ نمبر 4/2 پر مبینہ طور پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں۔
شہریوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور غیرقانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔


