جنگ بندی پر امریکی رضامندی کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)دو ہفتوں کی جنگ بندی پر امریکہ کی رضامندی کے بعد پاکستان میں یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ اب حکومت پاکستان کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بھی سنجیدہ سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے تو یہ پاکستان کے عالمی سفارتی وزن کا واضح ثبوت ہے۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ اسی اعتماد اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ بھی مؤثر انداز میں اٹھائے۔

عوامی رائے کے مطابق آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِاعظم کو مشترکہ طور پر اس انسانی مسئلے کو ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید پاکستانی قوم کے لیے ایک جذباتی اور حساس معاملہ ہے۔

شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے تو ایک پاکستانی شہری کی رہائی کے لیے بھی بھرپور سفارتکاری ممکن ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس موقع کو ضائع نہ کرے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لیے عملی اقدامات کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں