صوبوں کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت، کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے کا عزم

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)وفاقی دارالحکومت میں آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی تجویز پر غور کیا گیا تاہم صوبائی حکومتوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے وفاق سے لاک ڈاؤن نہ لگانے کی سفارش کی۔ اس کے ساتھ ہی کفایت شعاری اقدامات کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں توانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے اور صوبوں کو 254 ارب روپے کے ریلیف پیکج میں حصہ ڈالنے پر بھی زور دیا گیا۔ صدر مملکت نے ہدایت کی کہ بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی اپنائی جائے۔ اجلاس میں توانائی بحران، عالمی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ معیشت، توانائی، خوراک اور سکیورٹی کے معاملات میں مربوط فیصلے ناگزیر ہیں اور مشکل وقت میں کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے عوامی آگاہی مہم چلانے پر بھی زور دیا۔

حکومتی ارکان نے اجلاس کو بتایا کہ عالمی بحران کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی میں کوئی خلل نہیں اور تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ مستقبل کے لیے بھی انتظامات جاری ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی تجاویز مسترد کر دی گئی ہیں، سرکاری اخراجات میں کمی کے تحت 60 فیصد سرکاری گاڑیاں فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچت سے حاصل ہونے والے فنڈز عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس کو ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے رابطوں اور ملاقاتوں سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ آئندہ دورۂ بیجنگ کے حوالے سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا-

اپنا تبصرہ بھیجیں