اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)عالمی تیل منڈی ایک بڑے بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی صورتحال نے تیل کی سپلائی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ، معاشی ترقی کی شرح میں کمی اور کئی ایشیائی ممالک میں ایندھن کی قلت کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ تھائی لینڈ سے لے کر پاکستان تک فیول سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق دنیا نے ابھی تک اس بحران کی سنگینی کا مکمل اندازہ نہیں لگایا۔ امریکی حکومتی عہدیداران اور وال اسٹریٹ کے مالیاتی تجزیہ کار اب اس امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ بحران عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک پر پڑیں گے۔


