اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) حکومتِ پاکستان نے بجلی کے بحران اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے گھریلو صارفین پر نئے فکسڈ چارجز عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب صارفین کو بجلی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ماہانہ ایک مقررہ رقم بھی ادا کرنا ہوگی، چاہے بجلی کم استعمال ہو یا نہ ہو۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق فکسڈ چارجز 300 روپے فی کلو واٹ کے حساب سے لاگو کیے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
3 کلو واٹ لوڈ: ماہانہ 900 روپے اضافی فکسڈ چارجز
5 کلو واٹ لوڈ: ماہانہ 1500 روپے اضافی فکسڈ چارجز
لازمی ادائیگی: یہ چارجز بجلی کے یونٹس کے استعمال سے قطع نظر ہر صورت بل میں شامل ہوں گے اور ان کی ادائیگی لازم ہوگی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوگا، کیونکہ کم استعمال کے باوجود منظور شدہ لوڈ زیادہ ہونے کی صورت میں صارفین کو بھاری رقم ادا کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال، پیداواری لاگت اور واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔
شہریوں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فکسڈ چارجز کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، کیونکہ اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔


