کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر ساؤتھ اشفاق حسین کھوکھر کو اس کے فرنٹ مین آغا خالد کے ساتھ گھر روانہ کر دیا گیا،
کرپشن اور غیرقانونی تعمیرات اور سندھ کے اعلی انتظامیہ کا نام استعمال کرتے ہوئے بلڈرز کو بار بار ذبح کرنے کے پے درپے الزامات کے بعد سندھ حکومت کی ایما پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ نے سوموٹو لیتے ہوئے اشفاق کھوکھر کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ساتھ میں اس کے فرنٹ مین آغا خالد کی بھی شامت آ گئی
واضح رہے کہ نیب سندھ اور اینٹی کرپشن اشفاق کھوکھر کے اربوں روپے کے ڈکلیئر اثاثوں کی تحقیقات میں مصروف ہیں جبکہ ان کا اندازہ ہے کہ غیراعلانیہ (ان ڈکلئیر) اس سے دس گنا زیادہ ہو سکتے ہیں اور یہ تمام پیشہ پاکستان سے باہر حوالہ ہنڈی کے ذریعہ بھیجا گیا ہے اس لئے اس میں ایف آئی اے کا منی لانڈرنگ سیل بھی متحرک ہو سکتا ہے
یاد رہے کہ خاموشی سے اربوں روپے کا کام اتارنے والے اشفاق حسین کے خلاف سب سے پہلے تعمیراتی قوانین کی عملدرآمد کے لئے متحرک ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ نے اینٹی کرپشن کورٹ میں درخواست دی تھی کہ اینٹی کرپشن کا ڈیپارٹمنٹ ان کی درخواست کر دبا کر بیٹھا ہے جس پر اینٹی کرپشن کورٹ نے اینٹی کرپشن ساؤتھ کر کال رپورٹ نوٹس جاری کیا تھا اس کے بعد اشفاق کھوکھر کے خلاف اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف راجپر نے تحقیقات شروع کی لیکن مبینہ طور پر اپنے فرنٹ مین کے ذریعے 20 لاکھ روپے لے کر انکوائری کو سردخانے کی نذر کر دیا تھا، لیکن موجودہ افسر صبغت اللہ شیخ نے اس انکوائری کو دوبارہ سے شروع کر دیا ہے


