کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ڈکیتی کے مقدمے میں ملوث ملزم منٹھار کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران عدالت نے کراچی پولیس کی ناقص تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سماعت کے موقع پر جسٹس شمس الدین عباسی نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں مقدمات کی تفتیش کا معیار انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کا تفتیشی افسر کمپرومائزڈ معلوم ہوتا ہے اور ایسے افسر کو آئندہ کسی بھی فیلڈ پوسٹنگ پر تعینات نہ کیا جائے۔
عدالت میں آزاد خان (ایڈیشنل آئی جی کراچی) اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ بھی پیش ہوئے۔ جسٹس شمس الدین عباسی نے ایڈیشنل آئی جی سے مکالمے کے دوران سوال کیا کہ آپ ایسے افسران کو کیسے برداشت کرتے ہیں جو تفتیش میں سنگین خامیاں چھوڑتے ہیں؟
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے عدالت کو بتایا کہ جب سے انویسٹیگیشن اور آپریشن ونگ کو الگ کیا گیا ہے، تفتیش کا شعبہ متاثر ہوا ہے، تاہم حکومت اور پولیس اب اس معاملے پر سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی تفتیش کرنے والے افسران کو انسینٹو دیے جا رہے ہیں اور تفتیشی افسران کی باقاعدہ ٹریننگ بھی کروائی جا رہی ہے تاکہ تفتیش کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
بعد ازاں عدالت نے ملزم منٹھار کی درخواستِ ضمانت پر سماعت 8 مارچ تک ملتوی کر دی۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف سچ تھانے میں ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے۔


