اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) ٹرائل کورٹ کے جج نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا ہے کہ عمران خان کے خلاف 9 مئی کے احتجاج، اقدامِ قتل سمیت چھ مقدمات میں استغاثہ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت کے مطابق احتجاجی مقدمات میں جائے وقوعہ پر عمران خان کی موجودگی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ ہی ایسا کوئی شواہد سامنے آئے جن سے یہ ثابت ہو کہ احتجاج عمران خان کی ایماء یا ہدایت پر ہوئے۔
عدالتی آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن نے دو برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود الزامات کی تائید میں ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے، جس کے باعث عدالت نے اڑھائی سال بعد ان چھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر استغاثہ کا مؤقف کمزور پایا گیا، اس لیے ملزم کو ضمانت کا حق دیا جا رہا ہے۔ مزید قانونی کارروائی متعلقہ قوانین کے مطابق جاری رہے گی۔


