**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو)** – **سندھ ہائی کورٹ** نے شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے خاتون سے رضامندی حاصل کرنے کے الزام میں سزا پانے والے ملزم **عبداللہ** کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے **ٹرائل کورٹ** کی طرف سے سنائی گئی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
جسٹس **اقبال کلہوڑو** نے ریمارکس دیے کہ شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے حاصل کی گئی رضامندی قانونی طور پر قابل قبول نہیں، اور یہ **ریپ کے زمرے** میں آتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ شادی کے وعدے کے ذریعے کسی خاتون کو قائل کرنا ذہنی دباؤ اور فریب کے زمرے میں آتا ہے، اور غیر فطری عمل کے معاملے میں رضامندی کا جواز مؤثر نہیں ہوتا۔
ٹرائل کورٹ نے پہلے ملزم عبداللہ کو **10 سال قید اور جرمانے کی سزا** سنائی تھی۔ ملزم کے خلاف مقدمہ **تھانہ چاکیواڑہ** میں درج کیا گیا تھا۔
—
💬 **آزاد عدالتی خبریں حاصل کریں:**
مستند قومی اور قانونی اپڈیٹس کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
👉 [HRNW کی مدد کریں](https://hrnww.com/support-us)


